26 اکتوبر 2014 - 15:28
ضرب عضب کی کامیابیوں کے بعد مختلف شہروں میں فوج کی تعیناتی

اپنے ایک بیان میں ایس یو سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مروجہ قوانین کے ذریعے ہی حالات کو کنٹرول کرنا چاہیے اور لاء اینڈ آرڈر کو نافذ کرنیوالے اداروں کو متحرک کرنا چاہیے، تاکہ ایام غم میں عوام کی مذہبی اور شہری آزادیوں کا پرسکون انداز میں مکمل تحفظ ہوسکے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے حکومت کی جانب سے محرم الحرام میں مختلف شہروں میں فوج کی تعیناتی و دیگر حفاظتی اقدامات کے اعلانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عرصہ دراز سے ملک میں امن و امان کی صورت حال انتہائی خراب چلی آرہی ہے، جس پر ملک میں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے حکومت کو ضرب عضب جیسا اقدام اٹھانا پڑا اور اس اقدام کے بعد ضرب عضب میں کامیابیاں بھی حاصل ہوئیں، اور یہ آپریشن کئی مرحلے طے کرچکا ہے۔ کامیابیوں کے یہ مراحل طے کرنے کے بعد محرم الحرام میں اچھا تاثر ابھارنا اور عوام کی بے چینی اور اضطراب کا خاتمہ کرنا ضروری تھا، اس تناظر میں مختلف شہروں میں فوج کی تعیناتی اور اس قسم کے دیگر اقدامات کا جواز باقی نہیں رہتا، اس سے کشیدگی اور صورت حال کی خرابی کا منفی اثر ابھرتا ہے، جس سے پہلو تہی ضروری ہے۔ لہذا مروجہ قوانین کے ذریعے ہی حالات کو کنٹرول کرنا چاہیے اور لاء اینڈ آرڈر کو نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک کرنا چاہیے، تاکہ ایام غم میں عوام کی مذہبی اور شہری آزادیوں کا پرسکون انداز میں مکمل تحفظ ہوسکے۔ علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ نواسہ رسول اکرم(ص)، محسن انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام پوری امت کے امام اور پیشوا ہیں، ضرورت اس امر کی ہے ان ایام میں کسی دوسرے کے مسلک کو چھیڑنے کی بجائے صرف اپنا نقطہ نظر پیش کیا جائے۔ چونکہ عزاداری سیدالشہداء(ع) جبر کے خلاف جہاد کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے اور اس سے انسان کے ذاتی رویے سے لے کر اجتماعی معاملات میں انقلاب رونما ہوتا ہے۔

.......

/169